زکوٰۃ کن چیزوں پر ہے۔۔۔؟
سوال زکاۃ کن کن چیزوں پر فرض ہے؟سواری اور پراپرٹی پر زکاۃ فرض ہے؟ جواب زکاۃ صرف اس مال پر فرض ہے جو عادۃً بڑھتاہو، (خواہ حقیقتاً بڑھے یا حکماً) جیسے مالِ تجارت یا مویشی یا سونا چاندی اور نقدی، سونا، چاندی اور نقدی کو اسلام نے تجارت کا ذریعہ قرار دیا ہے ؛ اس لیے سونا چاندی پر بہرصورت زکاۃ لازم ہے، چاہے کوئی زیور بنا کر رکھے یا ٹکڑے بنا کر رکھے، ہر حال میں وہ بڑھنے والا مال ہے؛ اس لیے اگر وہ نصاب کے برابر ہو اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس پر زکاۃ فرض ہے، ان چار قسموں (سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت) کے اموال کے علاوہ ذاتی مکان، دکان ، گاڑی، برتن ، فرنیچر اور دوسرے گھریلو سامان ، ملوں اور کارخانوں کی مشینری ، اور جواہرات وغیرہ اگر تجارت کے لیے نہیں ہیں تو ان پر زکاۃ فرض نہیں ہے، ہاں اگر ان میں سے کوئی ایک بھی چیز فروخت کرنے کی نیت سے خریدی اور اس کی قیمت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو سال گزرنے پر اس کی زکاۃ فرض ہوگی۔ پراپرٹی اگر کسی شخص نے کرایہ پر دینے کی غرض سے خریدی ہے تو ایسی پراپرٹی کی ویلیو پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔ البتہ کرایہ پر دینے کے بعد جو کرایہ وصول ...